بدھ, اکتوبر 31, 2012

"وہی بیلے کی کلیاں وہی بہار کا موسم "

وہی بیلے کی کلیاں وہی بہار کا موسم
روش روش ہے تِرے انتظار کا موسم
جب  بھی سوچا   کوئے یار کا موسم
ذہن میں در آیا  ہلکی پھوار کا موسم
 تِری وفا  پہ  تو کبھی  یقیں نہ آیا
 جفا کے ساتھ ہے اعتبار کا موسم
تُجھے چاہا پر پانے کی خواہش نہ کی
کہ ہے  میرے قرار و اختیار کا موسم
میں کُچھ نہ کہوں بس دیکھتی رہوں
چاہوں  کہ  لوٹ آئے  پُکار کا موسم
چناروں  پر برف  پگھلتی  جاتی ہے
سوچتی ہوں کرنوں کے ہار کا موسم
سُرمئی شام کا اُجالا بیلے کی کَنج اور نور
خوش ہو کہ آیا  ہے تیرے نکھار کا موسم


1 تبصرہ:

"دلیل" اور"کارواں بنتا گیا"

تئیس جون 2017 بمطابق   ستائیس رمضان المبارک1438 ھ کو دلیل ویب سائیٹ کے قیام کو ایک برس مکمل ہوا۔ اس ایک   برس کے دوران "دلیل ویب س...