بدھ, اکتوبر 31, 2012

"ابر برسے تو برسات بھی آجاتی ہے "

ساغر میں اکثر زندگی کی تلخ شراب بھی آ جاتی ہے
تو پھر اِن مے خانوں میں  مِری ذات بھی آجاتی ہے 
تو ہی بتا میں کیسے سُناؤں حالِ دل اپنا
 اِن فسانوں میں تیری بات بھی آجاتی ہے
جیت لے جتنی جیت سکے یہ بازی جفا کی
بساطِ  عشق پہ تو اکثر مات بھی آجاتی ہے
نہ ہو خوش اتنا   گوہرِ  مقصود کو پا  کر
 صبحِ  کے بعد سیاہ رات بھی آجاتی ہے
قصہ  سُنا  رہا  ہے عاشق  اپنے  جنوں   کا
 صداؤں سے پیارکی خیرات بھی آجاتی ہے
نم  ہے  میری  آنکھ   اِس   اُمید   پر
ابر برسے تو برسات بھی آ جاتی ہے

 

1 تبصرہ:

"یہ جنگل ہمیشہ اداس رہے گا"

یہ جنگل ہمیشہ اداس رہے گا- جاوید چوہدری ۔23 جنوری 2018 میری منو بھائی کے ساتھ پہلی ملاقات 1996ء میں ہوئی‘ میں نے تازہ تازہ کالم لکھنا ...